بھٹکل 11/اپریل (ایس او نیوز) سات مرحلوں میں ہونے والے ملک کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے کے انتخابات آج جمعرات صبح سات بجے سے شروع ہوگئے ہیں جس میں 20 ریاستوں کی 91 سیٹوں پر لوگ اپنی اپنی حق رائے کا استعمال کریں گے۔ پہلے مرحلے کے انتخابات میں 1,279 اُمیدوار میدان میں ہیں۔
پولنگ کےدوران آندھر پردیش میں دو سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کےدرمیان جھڑپوں کی بھی واردات پیش آئی، جس میں میڈیا رپورٹوں کےمطابق دو لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے، جبکہ دیگر کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ اندھرا پردیش، سکم اور اُڑیسہ میں اسمبلی انتخابات بھی ہورہے ہیں ۔ اندھرا پردیش میں 175، سکم میں 32 اور اُڑیسہ میں 147 سیٹوں میں سے 28 سیٹوں پر انتخابات لڑے جارہے ہیں۔
آندھرا پردیش کی تمام 25 لوک سبھا سیٹوں ، تلنگانہ کی 17 سیٹوں اور اُترکھنڈ کی پانچ سیٹوں پر انتخابات ہورہے ہیں،اسی طرح اُترپردیش کی جملہ 80 سیٹوں میں سے آٹھ سیٹوں پر، مہاراشٹرا کی 48 میں سے سات سیٹوں پر، بہار کی 40 سیٹوں میں سے چار سیٹوں پر آج پہلے مرحلے کے پارلیمانی انتخابات کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اسی طرح آج پہلے مرحلے کی پولنگ میں آسام کی 14 سیٹوں میں سے پانچ سیٹوں پر، جموں و کشمیر کی پانچ سیٹوں میں سے دو سیٹوں پر ، چھتیس گڑھ کی گیارہ میں سے ایک سیٹ پر، مغربی بنگال کی 42 میں سے دو سیٹوں پر نارتھ ایسٹ اسام کی گیارہ سیٹوں میں سے نو سیٹوں پر اور انڈومان نکوبار اور لکشدیپ میں ایک ایک سیٹ پر آج انتخابات کا عمل جاری ہے۔
کئی پولنگ بوتھوں پر ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں: انتخابات کا عمل شروع ہوتے ہی کئی پولنگ بوتھوں سے ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں موصول ہوئی ہیں، جس سے متعلقہ بوتھوں پر انتخابی عمل کافی تاخیر سے شروع ہوا ہے۔
چندرابابو نائیڈو نے کی شکایت، کہا؛ ٹی ڈی پی کو ڈالا گیا تھا ووٹ، لیکن چلا گیا وائی ایس آر کو: آندھراپردیش کے وزیراعلی و تلگودیشم کے قومی سربراہ این چندرابابونائیڈو نے ریاست میں آج اسمبلی اورلوک سبھا کے انتخابات کے موقع پرای وی ایمس کے مناسب طورپر کام نہ کرنے کی شکایات پر الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ رائے دہی کے آغاز کے اندرون تین گھنٹے تقریبا 30 فیصد ای وی ایمس کے کام نہ کرنے کی شکایات ملی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ای وی ایمس کی خرابی پر ریاست بھرمیں رائے دہندوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور اس بات کی شکایات ملی ہیں کہ تیلگودیشم کو دیا گیا ووٹ وائی ایس آر کانگریس کو گیا ہے جو افسوسناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات سے ای وی ایمس کی خرابی کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ پولنگ میں تاخیر بھی کئی مقامات پرہوئی ہے۔انہوں نے کئی مقامات پر دوبارہ رائے دہی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ان شکایات پرفوری طورپر الیکشن کمیشن ردعمل جاری کرے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’جن مقامات پر 9.30 بجے تک ای وی ایم کی خرابی کے سبب ووٹنگ شروع نہیں ہو پائی ہے وہاں پر دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے۔‘‘ چندرا بابو نائیڈو کے مطابق 9.30 بجے تک ووٹنگ شروع نہ ہونے کے سبب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ وہ دوبارہ ووٹنگ کرنے نہیں آئیں گے۔ ایسے میں ان مقامات پر دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے۔
اتر پردیش کے سہارنپور میں 100 سے زائد ای وی ایم خراب: اتر پردیش کے سہارنپور لوک سبھا سیٹ پر لگاتار ای وی ایم خراب ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ خبروں کے مطابق اب تک 100 سے زائد ای وی ایم میں خرابی کا معاملہ سامنے آ چکا ہے اور انھیں بدل کر دوسرا ای وی ایم استعمال کیا گیا ہے۔ کئی پولنگ مراکز پر ای وی ایم میں خرابی سامنے آنے کے بعد لوگوں کو زبردست پریشانی کا سامنا کرنا پڑ ا جس کے نتیجے میں بوتھوں میں لمبی لمبی قطاریں ووٹروں کی لگی نظر آئی۔
جموں میں بڑی تعداد میں نظر آ رہے ہیں ووٹرس، نوجوانوں میں جوش: جموں و کشمیر میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ اس درمیان جموں شہر میں ووٹروں کی لمبی لمبی قطاریں اپنی باری کا انتظار کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ مہاجر ووٹروں کے لیے خصوصی پولنگ اسٹیشن بھی یہاں بنائے گئے ہیں۔
امیدوار نے پولنگ بوتھ پر ای وی ایم کو توڑ ڈالا؛ آندھرا پردیش کے اننت پور میں جن سینا پارٹی کے رکن اسمبلی کے امیدوار مدھوسودن گپتا نے پولنگ بوتھ پر ای وی ایم کو زمین پر پٹخ کر توڑ دیا۔ اس واقعہ کے بعد مدھوسودن گپتا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق مدھوسودن گپتا گُتّی کے ووٹنگ مرکز پر اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے پہنچے تھے۔ وہاں وہ یہ دیکھ کر ناراض ہو گئے کہ اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کے نام صحیح طریقے سے نہیں ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ جس پر وہ ناراض ہو گئے اور پولنگ افسران کو ڈانٹنے لگے۔ اسی درمیان انھوں نے وہاں موجود ای وی ایم مشین کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا، اس واقعے کے بعد مدھو سودن گپتا کو گرفتار کرلیا گیا۔
ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں : مہاراشٹر کے ناگپور، اتر پردیش کے غازی آباد، باغپت اور بجنور میں کچھ پولنگ بوتھوں پر ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق ای وی ایم میں خرابی کے سبب ووٹروں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

جھڑپوں میں دولوگوں کی موت: آندھرا پردیش کے تاڈی پتری حلقہ کے میراپورم میں وائی ایس آر کانگریس اور تیلگو دیشم پارٹی کے کارکنوں کے درمیان ہوئی جھڑپ میں دونوں پارٹیوں کے ایک ایک ورکر کی موت واقع ہوگئی، جس میں ایک کی شناخت سدھا بھاسکر ریڈی کی حیثیت سے کی گئی ہے تو دوسرے کی شناخت پُلّا ریڈی کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہاں دونوں پارٹیوں کے ورکروں نے ایک دوسرے پر سنگ باری کی بعد میں سیکوریٹی اہلکاروں نے یہاں لاٹھی چارج کرتے ہوئے حالات پر قابو پالیا۔ بتایا گیا ہے کہ جھڑپوں میں یہاں کئی دیگر لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ رائیل سیما اور پلناڈو میں تشدد کے دوران چھ ای وی ایم مشینوں کو نقصان پہنچنے کی بھی خبر ہے۔
اورنگ آباد، گیا، جموئی اور نوادہ میں سخت حفاظتی بندوبست؛ بہار میں لوک سبھا کی 40 میں سے پہلے مرحلے میں انتہا پسندی سے سب سے زیادہ متاثر 4 نشستوں اور اسمبلی کی ایک نشست کے ضمنی انتخاب کے لئے آج صبح 7:00 بجے سے زبردست حفاظتی انتظامات کے درمیان ووٹنگ شروع ہو گئی۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق دوپہر ایک بجے تک اورنگ آباد میں: 34.60 فیصد، گیا میں 33 فیصد، نوادہ میں 37 فیصد اور جموئی میں 29 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔
چھتیس گڑھ میں نکسلیوں نے کیا دھماکہ؛ نقصان کی خبر نہیں: چھتیس گڑھ کے بستر پارلیمانی حلقے پر آج ہو رہی ووٹنگ کے دوران نارائن پور ضلع میں نکسلیوں نے ووٹنگ کو متاثر کرنے کے لئے آئی ای ڈی دھماکہ کیااور ووٹروں کو ڈرانے کی کوشش کی، مگر اس دھماکہ میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی خبر نہیں ہے۔ خبر ملی ہے کہنکسل متاثرہ علاقوں میں دہشت پھیلانے کے لئے جگہ جگہ پرچے بھی پھینکے گئے۔ ضلع کے کواکونڈا تھانہ علاقے کے شیام گری پولنگ بوتھ کے نزدیک نکسلیوں نے کثیر مقدار میں الیکشن کا بائیکاٹ کرنے سے متعلق بینرس اور پوسٹر لگا کر ووٹروں کو ڈرانے کی کوشش کی، اس کے باوجود یہاں ووٹروں کی لمبی لائن لگی رہی۔ ادھر بیجاپور ضلع کے بیدرے تھانہ علاقے میں ایریا ڈومنیشن کےلئے نکلی پولس پارٹی نے ہتھار سمیت چار نکلسیوں کو گرفتار بھی کیا۔ ماڈ ڈیویژن کے نکسلیوں کےقبضے سے تین بندوقیں، آئی ای ڈی اور دیگر دھماکہ خیز اشیا بھی برآمد کی گئی۔سکما ضلع کے دورناپال تھانہ علاقے میں دیورپلی روڈ پرنکسلیون نے درخت گرا دیا، تاکہ ووٹر ووٹ دینے نہ جاپائیں۔
دوپہر تین بجے تک ہونے والی پولنگ اس طرح ہے:
Lakshadweep: 51.25 percent
Uttarakhand: 46.59 percent
Manipur: 68.90 percent
Nagpur (Maharashtra): 38.35 percent
Nagaland: 68 percent
Meghalaya: 55 percent
Uttar Pradesh: 50.86 percent
Arunachal Pradesh: 50.79 percent
Assam: 59.46 percent
Telangana: 48.95 percent
Tripura West: 68.65 percent
Mizoram:55.20 percent
West Bengal:69.94 percent